عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور سینئر صوبائی وزیر بشیر احمد بلور کی آوازکو جب خاموش کرایا گیا توسوچنے والوں نے یہ ضرور سوچا ہوگا کہ ریاست کتنی تیزی کے ساتھ اپنی رٹ مکمل طور پر دہشتگردوں کے حوالے کرنے کی طرف جارہی ہے۔
وادئی کوئٹہ کے علمدار روڈ پرشیعہ کمیونٹی کے سو سے زائد افراد کی لاشیں بکھری پڑی تھیں اوردو سو سے زائد زخمی حالت میں تڑپ رہے تھے۔ ہر آنکھ اشک بار تھی۔ انہیں محض شیعہ ہونے کی پاداش میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس دلخراش لمحےسوچنے والوں نے ضرور سوچا ہوگا کہ ریاست کہاں ہے! کیونکہ دہشتگردوں کا خاتمہ سیاسی جماعتوں کی نہیں بلکہ ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
ملالہ کا جرم بھی یہی تھا کہ اس نے اپنی ڈائری کے ذریعے سوات میں ن صرف طالبان کی نام نہاد شریعت کو بے نقاب کیا بلکہ ان کے ظلم و ستم، قتل و غارت اور کشت و خون کے دنیا کے سامنے پیش کیا۔ ملالہ پر حملے کے وقت بھی سوچنے والوں کے ذھن میں سوال ابھراہوگا کہ ریاست کہاں ہے؟
اسی کی دھائی میں شروع ہونے والے جہاد نے افغانستان کو تو کھنڈر بنایا ہی تھا لیکن ساتھ ہی پاکستانی معاشرے کو بھی کھوکلا کردیا۔ اسٹیبلشمنٹ کے تیار کردہ جذبہ جہاد سے سرشار ہمارے مذھبی رہناؤں، صحافیوں اور جذباتی پریس نے جہاد کی مخالفت کرنے والوں کو کافر اور غدار قرار دیا تھا۔ ایم کیو ایم کے ارکان سندھ اسمبلی رضا حیدر، منظر امام اور اے این پی کے رہنما بشیر بلور کا قتل جبکہ پولیو کے قطرے پلانے والی خواتین اور ملالہ پر حملے بھی اسی نام نہاد جہاد کا تسلسل ہیں جو خودکش حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کی صورت میں پورے ملک کیلئے ایک ناسور کی شکل اختیار کرچکا ہے ۔
گذشتہ پانچ سال کے دوران پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کو وبیش پانچ سو تعلیمی ادارے بشمول آرمی پبلک اسکول اور باچا خان یونیورسٹی اور اب کراچی کے تعلیمی ادارے شدت پسندوں کی کارروایئوں کا نشانہ بنے ہیں جسکی وجہ سے تقریبا پانچ لاکھ بچے حصول تعلیم سے محروم ہوچکے ہیں۔ فاٹا کے محکمہ تعلیم کے ڈپٹی ڈائریکٹر ہاشم خان آفریدی کے مطابق قبائلی علاقوں میںایس کارروایئوں کے نتیجے میں کالج، ہائر سیکنڈری ، مڈل اور پرائمری سطح کے 485 اسکول تباہ کردیئے گئے ہیں۔واضح رہے کہ یہ اعدادوشمار صرف سرکاری تعلیمی اداروں کی ہے جبکہ تباہ کئے جانے والے تعلیمی ادارے اس کے علاوہ ہیں۔اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ بہت سے بچے محنت مزدوری کرنے پر مجبور کردیئے گئے ہیں۔شوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کونسی شریعت ہے جس میں تعلیمی اداروں کو بارود سے اڑا دیا جائے اور یہ کیسا اسلام ہے جس میں بے گناہ فراد کو قتل کردیا جائے! جب انہی وجوہات کی بنا پر مغرب میں اسلا م کو ایک دہشتگرد مذھب قرار دیا جاتا ہے تو ہم مشتعل ہوجاتے ہیں۔
نام نہاد جہادیوں کے سرپرست حمید گل مرحوم کا کہنا تھا کہ جب تک قبائلی علاقوں پر بمباری بند نہیں کی جاتی ملک میں خودکش حملے جاری رہیں گے۔ یہ درحقیقت خودکش حملوں کی حماعت اور انہیں جواز فراہم کرنا ہے اور تمام مذھبی جماعتیں اس ہی مؤقف کی حمایت کرتی ہیں۔ ان میں جماعت اسلامی سر فرست ہے۔
جماعت اسلامی کی سرگرمیاں ہمیشہ خوفناک رہی ہیں۔ اس کے دہشتگردوں نے الشمس اور البدر کے نام سےجنرل یحی کے فوجی دستوں کے ساتھ مل کر مشرقی پاکستان کی سرزمین انسانی لہو سے رنگین کردی تھی۔جماعت اسلامی نے جہادکشمیر کے نام پر دولت کے انبار لگائے اور معصوم نوجوانوں کو جہاد کے نام پر موت کے منہ میں دھیلاہ ۔ گو کہ مولانا مودودی نے حکومت وقت سے مسلح تصادم کا خطرہ مول نہ لیکرتو کبھی اپنے کارکنوں کو نہ مرویالیکن حکومت وقت کے ساتھ مل کر ضرور ایسا کرتے رہے۔نوجوانوں کو کتاب وقلم اور حصول علم کی راہ سے ہٹا کرہتھیار پکڑائے اور سیاسی اقتدار کے حصول کو جہاد کا نام دے کر مرنے مارنے کی پالیسی مولانا کی گمراہ کن سوچ کی عکاس تھی۔جامعہ پنجاب، کراچی یونیورسٹی اور دیگر تعلیمی اداروں میں جمعیت نے بدتمیزی اور غنڈہ گردی کے جو باب رقم کئے ان کی تفصیلات کا یہ مختصر مضمون متحمل نہیں ہوسکتا۔
جماعت اسلامی کے سابق امیر منور حسن نے امارت کا حلف اٹھاتے ہی میدیا کے نمایئندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اپنی جماعت کے چیدہ چیدہ نکات بیان کئے جو نکات کم اور دھمکیاں زیادہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پاکستان میں اسلامی نظام کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کو اسلام کی آغوش میں لانا چاہتی ہے ۔انہوں نے کشمیر میں مسلح جدوجہد کی حمایت کی اور عرب طالبان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ طالبان اس وقت دنیا کی سب سے بڑی برائی امریکہ سے لڑ رہے ہیں۔ منور حسن نے سوات میں صوفی محمد کے اقدمات کی بھی بھرپور حمایت کی اور اسے اسلامی شریعت کے عین مطابق قرار دیا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ تعلیم یافتہ نوجوان اس گمراہ کن سوچ سے کیوں متاثر ہورہے ہیں! اس کا جواب علامہ اقبال جیسے مفکرین کے افکار میں موجود ہے۔بدقسمتی سے خوش عقیدہ لیکن کم فہم مسلمانوں کے ذہنوں میں یہ عقیدہ پختگی کی حد تک جما دیا گیا ہے کہوہ حکمرانی کیلئے ہی پیدا ہوئے ہیں۔ علامہ اقبال کہتے ہیں کہ
عالم ہے فقط مؤمن جانباز کی میراث
مؤمن نہیں جو صاحب لولاک نہیں ہے
تو ان کے کہنے کا مطلب یہ ہوتا ہےحکمرانی صرف مسلمان کاحق ہے اور اگرمسلمان محکوم ہیں تو وہ سچے اور خالص مسلمان نیںک ہیں۔ لہذا اپنے آپ کو سچا مسلمان بنانے کیلئےقتال اور جنگ وجدال کے ذریعے حکمرانی اپنے ہاتھ میں لے لینا چاہئے۔اسی سوچ وفکر نے کئی گروہوں کو سرگرم عمل کردیا ہے اور ہر گروہ کی رائے اسکی اپنی دانست میں درست اسلام ہے ۔اسلئے دوسروں کو اسکی رائے کا پابند ہونا چاہئے۔جررل ضیاء نے اس سوچکو تقویت بخشی اورجنگ افا نستان نے رہی سہی کسر پوری کردی۔ نتیجہ یہ کہ دنیا بھر کے جنگجو پاکستان میں جمع ہوگئے۔القائدہ، طالبان سمیت کئی جہادی تنظیموں کو یہاں خوب پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کیا گیا اوراسطرح پورے ملک کو بارود کا ڈھیر بنا دیا گیا جب کہ کراچی اس کا بدترین ہدف رہا۔
No comments:
Post a Comment